AL-QURAN

قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡئِدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ

ترجمہ:ان سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے ، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو

تفسیر: یعنی اللہ نے تو تمہیں انسان بنایا تھا ، جانور نہیں بنایا تھا ۔ تمہارا کام یہ نہیں تھا کہ جو گمراہی بھی دنیا میں پھیلی ہوئی ہو اس کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل پڑو اور کچھ نہ سوچو کہ جس راہ پر تم جا رہے ہو وہ صحیح بھی ہے یا نہیں ۔ یہ کان تمہیں اس لیے تو نہیں دیے گئے تھے کہ جو شخص تمہیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی کوشش کرے اس کی بات سن کر نہ دو اور جو غلط سلط باتیں پہلے سے تمہارے دماغ میں بیٹھی ہوئی ہیں انہیں پر اڑے رہو ۔ یہ آنکھیں تمہیں اس لیے تو نہیں دی گئی تھیں کہ اندھے بن کر دوسروں کی پیروی کرتے رہو اور خود اپنی بینائی سے کام لے کر یہ نہ دیکھو کہ زمین سے آسمان تک ہر طرف جو نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ آیا اس توحید کی شہادت دے رہی ہیں جسے خدا کا رسول پیش کر رہا ہے یا یہ شہادت دے رہی ہیں کہ سارا نظام کائنات بے خدا ہے یا بہت سے خدا اس کو چلا رہے ہیں ۔ اسی طرح یہ دل و دماغ بھی تمہیں اس لیے نہیں دیےگئے تھے کہ تم سوچنے سمجھنے کا کام لے کر یہ سوچنے کی کوئی زحمت گوارا نہ کرو کہ وہ غلط ہے یہ صحیح ۔ اللہ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں تمہیں حق شناسی کے لیے دی تھیں ۔ تم ناشکری کر رہے ہو کہ ان سے اور سارے کام تو لے لیتے ہو مگر بس وہی ایک کام نہیں لیتے جس کے لیے یہ دی گئی تھیں۔

Published by YouTube Videos

To instruct about study help.

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started